نئی دہلی، 19؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )مرکزی کابینہ نے آئندہ ہونے والے انتخابات میں استعمال کے لیے پیپر ٹریل مشینوں کی خریداری کی الیکشن کمیشن کی تجویز کو آج منظوری دے دی ہے ۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آنے والے تمام انتخابات میں ای وی ایم کے ساتھ پیپر ٹریل مشین کے استعمال کا مطالبہ تیز ہو تا جا رہا ہے، تاکہ اس بارے میں شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں مختصر بحث کے بعد وی وی پی اے ٹی یونٹوں کی خریداری کی تجویز کو منظوری دی گئی ہے ۔الیکشن کمیشن نے ملک کے تمام پولنگ مراکز کے لیے 16لاکھ سے زیادہ پیپر ٹریل مشینوں کی خریداری کے لیے 3174کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے ۔کابینہ نئی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے اب تک دو قسطوں میں 1009کروڑ روپے اور 9200کروڑ روپے کی منظوری فراہم کر چکی ہے۔جون 2014کے بعد سے کمیشن نے حکومت کو وی وی پی اے ٹی مشینوں کی خریداری کے لیے فنڈ جاری کرنے کے سلسلے میں کم از کم 11بار یاددہانی کرائی ہے۔گزشتہ سال الیکشن کمشنر ایس این اے زیدی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی ۔سپریم کورٹ نے کمیشن کو یہ بتانے کو کہا تھا کہ وہ کب تک سبھی پولنگ مراکزپر وی وی پی اے ٹی مشینوں کا استعمال کر سکتی ہے۔کمیشن نے کہا ہے کہ دو پی ایس یو ای سی آئی ایل اور بی ای ایل کو 16لاکھ وی وی پی اے ٹی کی تیاری کے لیے 30ماہ کا وقت چاہیے ۔قابل ذکرہے کہ 16سیاسی پارٹیوں نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے میمو رنڈم میں وسیع شفافیت کے لیے بیلٹ پیپر نظام کو لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بی ایس پی، آپ، کانگریس نے ای وی ایم میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر نشانہ بھی سادھا تھا۔